6 ستمبر، 2026، 8:59 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

علی الطاہر پر قبضے کا دعوی؛ اسرائیلی فوج کی فوجی کامیابی یا نتن یاہو کی میڈیا مہم؟

علی الطاہر پر قبضے کا دعوی؛ اسرائیلی فوج کی فوجی کامیابی یا نتن یاہو کی میڈیا مہم؟

رپورٹس کے مطابق علی الطاہر کی چوٹی پر اسرائیلی فوج کے مکمل قبضے کی تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ اس علاقے پر اسرائیلی کنٹرول سے متعلق بیشتر خبریں اسرائیل کے حامی ذرائع ابلاغ اور نیٹ ورکس کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گزشتہ ایام کے دوران جنوبی لبنان کے علاقے علی الطاہر کی چوٹی کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ میدان جنگ میں کسی یقینی اور حتمی تبدیلی سے زیادہ فوجی اصطلاحات میں پائی جانے والی ابہام اور اس کے سیاسی استعمال کی مثال ہے۔

صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعرات کی رات اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے علی الطاہر میں اپنی کارروائی مکمل کرلی ہے اور اب یہ علاقہ اسرائیلی بستیوں کے لیے خطرہ نہیں رہا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی علاقے میں زمین کے اوپر اور زیرزمین عملیاتی کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا۔

تاہم یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ عملیاتی کنٹرول کا مطلب لازماً کسی علاقے پر مکمل قبضہ اور وہاں اسرائیلی فوجیوں کی مستقل تعیناتی نہیں ہوتا۔ یہ اصطلاح کسی علاقے کی نگرانی، اسے قابو میں رکھنے اور ضرورت پڑنے پر وہاں کارروائی کرنے کی فوجی صلاحیت کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ اس لیے اسے کسی پہاڑی یا علاقے پر مکمل اور مستقل قبضے کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ایک فوجی اصطلاح سے ایک نئی داستان کیسے بنی؟

نیتن یاہو کے بیان کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ پہلی نظر میں اس سے علی الطاہر کی چوٹی پر اسرائیلی فوج کے مکمل قبضے کا تاثر پیدا ہوسکتا تھا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور بعض علاقائی میڈیا اداروں نے بھی اسی ابہام کو نمایاں کرتے ہوئے اسے ایک بڑی فوجی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔

مختلف رپورٹس میں کنٹرول اور عملیاتی کنٹرول جیسی اصطلاحات استعمال کی گئیں، لیکن فوجی اعتبار سے یہ الفاظ لازماً کسی علاقے پر مکمل قبضے اور مستقل موجودگی کے معنی نہیں رکھتے۔ اس لیے دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر علی الطاہر کے سقوط یا مکمل قبضے کے بارے میں پیدا ہونے والا شور مکمل طور پر درست تصویر پیش نہیں کرتا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جو بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے، وہ لازماً اس چوٹی پر مستقل فوجی تعیناتی اور مکمل قبضہ نہیں بلکہ عملیاتی کنٹرول ہے۔

یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران علی الطاہر جنوبی لبنان میں ایک حساس محاذ بنا ہوا ہے اور اس علاقے میں اسرائیلی موجودگی مضبوط کرنے کی کوششوں کو مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ اس محور میں طویل جھڑپوں اور بار بار پیش قدمی کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

اسرائیل کے لیے علی الطاہر کیوں اہم ہے؟

علی الطاہر کی اہمیت صرف ایک پہاڑی پر قبضے تک محدود نہیں، بلکہ اس کی اصل اہمیت علاقے کی نگرانی اور جنوبی لبنان کے بعض حصوں پر بالواسطہ فوجی کنٹرول کی صلاحیت سے جڑی ہوئی ہے۔

یہ چوٹی نبطیہ اور اس کے اردگرد کے بعض علاقوں اور راستوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے جنوبی لبنان میں اسے ایک اہم نگرانی اور فوجی کارروائی کے مقام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اسرائیل کی کارروائی کا ایک مقصد حزب اللہ سے یہ صلاحیت چھیننا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی شمالی اسرائیلی بستیوں کو درپیش خطرے میں مستقل کمی پیدا کرسکتی ہے یا نہیں۔

نیتن یاہو نے یہ اعلان کرکے کہ علی الطاہر سے اسرائیل کو لاحق خطرہ ختم ہوگیا ہے، اس کارروائی کو شمالی اسرائیلی بستیوں کے لیے ایک سکیورٹی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فوجی کارروائی اسرائیل کی داخلی سیاست سے جڑ جاتی ہے۔

اصل کامیابی کا فیصلہ میدان جنگ کرے گا

اسرائیل عملیاتی کنٹرول کو فوجی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتا ہے، لیکن اس کامیابی کا اصل پیمانہ اسرائیلی فوج کا بیان نہیں بلکہ میدان میں پیدا ہونے والی مستقل صورت حال ہوگی۔ اگر حزب اللہ اب بھی اس علاقے کے اطراف سے نگرانی، ڈرون کارروائی یا فائرنگ کی صلاحیت رکھتا ہے تو صرف ایک فوجی اصطلاح کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل ہوگا کہ پورا سکیورٹی توازن تبدیل ہوگیا ہے۔

اسی لیے علی الطاہر میں ہونے والی کارروائی کو فی الحال لازماً ایک بڑی فوجی حکمتِ عملی کی کامیابی یا علی الطاہر پر مکمل قبضہ کے بجائے اسرائیلی فوج کی جانب سے بیان کردہ ایک عملیاتی کامیابی کا دعوی سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں پیدا ہونے والا تنازع اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک فوجی اصطلاح کو تیزی سے سیاسی اور میڈیا کی ایک بڑی داستان میں تبدیل کردیا گیا۔ نیتن یاہو نے شمالی اسرائیلی بستیوں کے رہنے والوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ خطرہ ختم ہوگیا ہے، جبکہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اسی پیغام کو اپنی سیاسی اور میڈیا مہم کا حصہ بنایا۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق اب تک علی الطاہر کی چوٹی پر اسرائیلی فوج کے مکمل قبضے کی واضح تصدیق نہیں ہوئی۔ اسرائیلی کنٹرول سے متعلق بیشتر دعوے بھی اسرائیل کے حامی ذرائع ابلاغ اور نیٹ ورکس کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ اس لیے علاقے کی حقیقی صورت حال کا درست اندازہ لگانے کے لیے آئندہ دنوں میں سامنے آنے والی میدان جنگ کی اطلاعات کا انتظار کرنا ضروری ہے۔

تاہم اگر علی الطاہر پر اسرائیلی فوج کا قبضہ ثابت بھی ہوجائے تو اسے مزاحمت کے خاتمے یا پورے فوجی توازن میں مکمل تبدیلی کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس چوٹی کی حقیقی اہمیت اس وقت سامنے آئے گی جب اسرائیل وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنے، مستقل فوجی ٹھکانے قائم کرنے اور انہیں محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوگا۔

موجودہ حالات میں عارضی پیش قدمی یا محدود فوجی موجودگی اور کسی علاقے میں مستقل اور مستحکم فوجی موجودگی قائم کرنے کے درمیان واضح فرق کرنا ضروری ہے۔

News ID 1941167

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha